بھوپال،03/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) 10 دن پہلے جھابوا اسمبلی ضمنی انتخابات میں ملی کراری شکست کے بعد بی جے پی کوایک اورجھٹکالگاہے۔تحصیلدارسے مارپیٹ اور ہنگامہ آرائی کے معاملے میں دارالحکومت کی خصوصی عدالت کی طرف سے مجرم ٹھہرائے گئے مرکت ضلع کی پوئی سیٹ سے بی جے پی ممبر اسمبلی پرہلاد لودھی کی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی۔ساتھ ہی نوٹیفکیشن پرعملدرآمد کرکے مرکزی الیکشن کمیشن کو پوئی سیٹ خالی ہونے کی اطلاع بھی بھیج دی۔ جمعرات کو عدالت نے لودھی کو دو سال کی سزا دی تھی۔اس فیصلے کی تصدیق کی کاپی اسمبلی پہنچی تو صدر این پی پرجاپتی نے کورٹ کے فیصلے پر عمل لودھی کی رکنیت ختم کر دی۔ لودھی نے اس فیصلے کو تاناشاہی بتایاہے اور کہا ہے کہ مجھے اس کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔میں اس فیصلے کو بڑی عدالت میں چیلنج کروں گا۔لودھی سمیت 12 افراد پرالزام تھا کہ انہوں نے ریت کان کنی کے خلاف کارروائی کرنے والے ریپرا تحصیلدار کو درمیان روڈ پر روک کر مارپیٹ کی۔ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی صورت دیکھنے والی خصوصی عدالت نے انہیں دو سال کی سزا سنائی تھی۔اسمبلی صدرکاکہنا ہے کہ دی رپریجیٹیشن آف دی پیپلز ایکٹ 1951 کی دفعہ 8 (3) میں واضح ہے کہ اگر کسی عوامی نمائندے کودوسال یا اس سے زیادہ سزا ہوئی ہے تو وہ نااہل ہوجائے گا۔صرف دوسال سے کم سزا ملنے پر ہی اپیل، سماعت اورفیصلہ ہونے تک رکنیت برقرار رکھنے کاانتظام 8 (4) میں ہے۔ اس میں 30 سے لے کر 60 دن کا وقت اپیل کے لیے ہے۔